Get me outta here!

Monday, 24 June 2019

Hazrat Yousuf (A.S)




حضرت یوسفؑ کا بقیہ حصہ

حضرت یوسفؑ جب قید میں تھے تو بادشاہ کو ایک خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور گندم کے ایک پودے میں سات سر سبز بالیاں ہیں ، اچانک سات پتلی بالیوں نے انھیں کھا لیا۔ جیسے ہی صبح ہوئی اس نے اپنے درباریوں اور دوسرے افراد جو خواب کی تعبیر کر سکتے تھے ان کو یہ خواب بتایا۔ لیکن کوئی ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکا۔ ان درباریوں میں وہ ساقی بھی موجود تھا۔ اس نے سوچا وہ قیدی جس نے مجھے خواب کی تعبیر بتائی تھی میں نے تو اس کا تذکرہ ہی نہیں کیا بادشاہ سے۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سلامت قید خانے میں ایک قیدی نے مجھے میرے خواب کی تعبیر بتائی تھی اور بالکل سہی بتائی تھی۔ آپ کہیں تو میں اس سے آپ کے خواب کی تعبیر پوچھ آؤں۔ بادشاہ نے کہا بالکل ضرور جاؤ۔ وہ جیل گیا خواب کی تعبیر پوچھنے کے لیے۔ اس نے حضرت یوسفؑ کو بادشاہ کا خواب بتایااور کہا کہ اس کی تعبیر بتاؤ۔ حضرت یوسفؑ نے بغیر کسی شرط کے تعبیر بتائی اور کہا کہ آنے والے ساتھ سال بہت زرخیز ہوں گے۔ ہر طرف اناج، فصل، غلہ ہو گا۔ لیکن اس کے بعد جو سات سال آئیں گےاس میں تاریخ کا بدترین قحط پڑے گا۔ کچھ کھانے کو نہیں ہو گا، لوگ بھوکے مر جائیں گے۔ کچھ کھانے کو نہیں ہو گا۔ اس لیے اپنے بادشاہ کو مشورہ دو کہ اُن سات سالوں کے لیے آج سے ہی غلہ جمع کرنا شروع کر دے تاکہ قحط کے سالوں میں زندہ رہا جا سکے۔ اس ساقی نے یہ تعبیر سنی اور اپنے بادشاہ کو جا کرخواب کی تعبیر بتائی کہ یہ کہہ رہا ہے وہ قیدی۔ بادشاہ نے کہا کہ فوراً اس قیدی کو یہاں بلاؤ۔ وہ گیا اس نے حضرت یوسفؑ کو کہا کہ بادشاہ  سلامت آپ کو طلب کر رہے ہیں۔ حضرت یوسفؑ نے کہا کہ نہیں میں اب ایسے باہر نہیں آؤں گا۔ پہلے ان تمام عورتوں کو بُلواؤ جنہوں نے مجھ پر تہمط لگائی تھی اور زلیخا کو بلاؤ۔ ان سب کو بُلایا گیااوربھرے دربار میں حضرت یوسفؑ کی پاک دامنی کی گواہی دی۔ میں گناہ کا ارادہ رکھتی تھی۔ جب زلیخا نے حضرت یوسفؑ کی پاک دامنی کی گواہی دے دی تو  حضرت یوسفؑ نے کہا اب میں بادشاہ سے ملنے کو تیار ہوں۔ جب حضرت یوسفؑ محل کے دربار میں داخل ہوئے تو ہر کوئی بادشاہ سمیت آپؑ کا حسن، آپ کی بزرگی، آپ کا ارعب دیکھ کر شدید متاثر ہوئے۔ بادشاہ نے کہا آپ نے خواب کی تعبیر تو بتا دی ہے ،اب اس قحط سے بچنے کے لیے مدد بھی آپ ہی کر دیجیے۔ حضرت یوسفؑ نے کہا ان معاملات کا انتظام میرے علاوہ کوئی نہیں سمبھال سکتا۔ میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ آپ مجھے غلہ کے سرکاری گوداموں کی نگرانی سونپ دیں تاکہ میں آنے والے سات قحط والے سالوں کے لیے غلہ بچا سکوں۔ بادشاہ ویسے بھی حضرت یوسفؑ سے بہت متاثر ہو چکا تھا اس لیے اس نے آپؑ کو اس درجے پہ مقرر کر دیا جس کا انھوں نے کہا۔ جیسا حضرت یوسفؑ نےکہا تھا سات سال ٹھیک گزر گئے اور اس کے اگلے سات سالوں میں قحط پڑ گیا۔ قحط اتنا شدید ہو گیا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ مصر کے علاوہ کسی ملک میں غلہ نہ بچا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دنیا بھر سے قافلے مصر آنے لگے غلہ لینے کے لیے۔ ایک دن حضرت یوسفؑ کے پاس ایک قافلہ آیا غلہ مانگنے کے لیے۔ یہ قافلہ حضرت یوسفؑ کے دس بھائی تھے جنھوں نے آپؑ کو کنوے میں پھینکا۔ وہ آپؑ کو نہ پہچان پائے کیوں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ حضرت یوسفؑ  اس مقام و مرتبہ پہ فائز ہوئے لیکن حضرت یوسفؑ نے ان کو پہچان لیا۔ حضرت یوسفؑ نے انہیں اپنے بارے میں نہیں بتایا لیکن ان سے ان کے علاقے کے بارے میں پوچھا، ان کے والد کے بارے میں پوچھا اور پوچھا کہ وہ کتنے افراد ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم ایک ہی باپ کے بارہ بیٹے ہیں ایک بھائی گم ہو گیا ہے اور اس کا چھوٹا بھائی ہمارے والدکے پاس ہے۔ حضرت یوسفؑ نے ان سے کہا کہ اگلی بار جب آؤ گے تو اپنے اس چھوٹے بھائی(بنیامین) کو لے کر آنا ورنہ مت آنا۔ حضرت یوسفؑ نے انھیں بہترین غلہ  دے کر رخصت کر دیا۔ جب وہ سارے بھائی حضرت یعقوبؑ کے پاس پہنچے اور انھوں نے وہ تھیلے کھولے (جن میں غلہ تھا ) تو انھوں نے دیکھا کہ جو رقم انھوں نے غلہ خریدنے کے لیے دی تھی وہ بھی حضرت یوسفؑ نے واپس کر دی۔ یہ دیکھ کر سب بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد سارے بھائی اپنے باپ سے ضد کرنے لگے کہ کچھ دنوں بعد جب غلہ ختم ہو جائے گا تو دوبارہ لینے جانے کے لیے بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ لانا ورنہ مت  آنا۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو سختی سے منع فرما دیا۔ جب بھائیوں نے اسرار کیا تو آخر انھوں نے بنیامین کو ان کے ساتھ بھیج دیا اور ان سے وعدہ لیا کہ اس کا خیال رکھنا۔ پھر یہ سارے بھائی دوبارہ حضرت یوسفؑ کے پاس پہنچے ۔ اس بار انھوں نے پھر سے ان کو ان کی قیمت سے بھی زیادہ غلہ دے دیا لیکن بنیامین کو بتا کر اس کے تھیلے میں   اپنے پانی بینے کا پیالہ رکھ دیا۔ جب وہ قافلہ روانہ ہو گیا اور راستے میں پہنچا تو حضرت یوسفؑ نے کچھ لوگ ان کے پیچھے بھیجے۔ انھوں نے کہا کہ رُک جاؤ، تم میں سے کسی نے چوری کی ہے۔ بھائیوں نے کہا ہم نے چوری نہیں کی، ہم چور نہیں ہیں بے شک ہماری تلاشی لے لو۔ تلاشی لی گئی اور بنیامین کے تھیلے میں سے ایک پیالہ برآمد ہو گیا۔ چوری کی وجہ سے حضرت یوسفؑ نے ابنیامین کو روک لیا۔ سارے بھائی روتے رہے لیکن پھر بھی انھیں واپس حضرت یعقوبؑ کے پاس جاناپڑا۔ حضرت یعقوبؑ نے کہا دوبارہ مصر جاؤ اور بنیامین کو واپس لے کر آؤ۔ جب یہ لوگ واپس مصر گئے تو انھوں حضرت یوسفؑ  نے کہا کہ تمہارا ایک بھائی یوسف بھی تھا۔ تم نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کو پتا چل گیا کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کا بھائی یوسفؑ ہے۔  اس موقع پر انھوں نے اپنی قمیض اتار کر اپنے بھائیوں کو دی اور کہا یہ بابا جان کی آنکھوں پہ رکھنا ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔ جب وہ بھائی حضرت یعقوبؑ کے پاس پہنچے بھی نہیں تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ مجھے میرے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔اس قمیض سے آپؑ کی بینائی واپس آگئی۔ حضرت یوسفؑ کا تمام خاندان پھر مصر حجرت کر گیا۔ سب دربار یوسف میں پہنچے اور ا ن کے سامنے جھک گئے۔ تب حضرت یوسفؑ نے اپنے والد سے کہا کہ بابا جان یہی وہ دن ہے جو مجھے خواب میں بتایا گیا تھا  کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ اس خؤاب کا مطلب یہ تھا کہ گیارہ ستارے مطلب گیارہ بھائی، سورج اور چاند مطلب ان کے والدین ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پہ انھوں نے کہا کہ آج کے دن تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ اور یہی بات حضرت محمدﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر بولی تھی اپنی جان کے دشمنوں کو کہ 
آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔




















Friday, 21 June 2019

Hazrat Yousuf (A.S)




حضرت یوسفؑ کا بقیہ حصہ

حضرت یوسفؑ جب جوان ہوئے تو ان کا حسن عروج پر پہنچ گیا۔ انھوں نے زلیخا کو ہمیشہ پاک نظر سے دیکھا لیکن زلیخا آپ کے حسن پہ فریقتہ ہو گئی۔ آہستہ آہستہ زلیخا کی یہ محبت ایک دن اس انتہا پہ لے آئی کہ اس نے گناہ کا سوچا۔ ایک دن حضرت یوسفؑ محل کے ایک اندرونی حصے میں تھےکہ زیلخا نے محل کے سارے دروازے بند کر دیے اور انھوں نے حضرت یوسفؑ کو گناہ کی دعوت دی   اور کہا جلدی آؤ۔   حضرت یوسفؑ نے کہا کہ اﷲ کی پناہ ! وہ میرا مالک ہے۔ یعنی گھر کا مالک اور تیرا خاوند، میرا آقا ہے۔ مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے۔ بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں  ہوتا ہے۔ پھر اﷲ نے حضرت یوسفؑ کو تونائی بخشی اور پھر حضرت یوسفؑ محل  سے نکلنے کی غرض سے بھاگے۔ جہاں پر سے وہ بھاگے تھے وہاں سے محل کے باہر تک سات دروازے تھے۔ ہر دروازے پہ تالا لگا ہوا تھا۔ اﷲ کی قدرت سے سارے دروازوں کے تالے خودبخود کُھلتے جاتے اور حضرت یوسفؑ بھاگتے جاتےاور زلیخا ان کے پیچھے بھاگتی گئی۔ ساتویں دروازے پہ زلیخا ان کو پکڑنے میں کامیاب ہوئی اور جیسے ہی زلیخا نے حضرت یوسفؑ کو پکڑا ان کی قمیض  پیچھے سے پھٹ گئی۔ اسی کے دوران محل کا دروازہ کھلا اور عزیزِ مصر اندر داخل ہوا۔ عزیزِ مصر نے جب یہ سارا مصر دیکھا تو اس کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر زلیخا نے اپنا رویہ ہی بدل لیا اور رونے لگی۔ اس نے عزیزِ مصر سے کہا آپ نے اس شخص کو اپنا بیٹا بنانے کا ارادہ کیا، آپ جانتے ہیں کہ کیا غضب ہو گیا، اس شخص نے میری عزت پہ ہاتھ ڈالا ہے(نا اعوذُباﷲ) ۔ حضرت یوسفؑ نے عزیزِ مصر سے کہا  میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ، آپ میرے آقا ہیں ، یہ عورت مجھے پھسا رہی ہے۔ عزیزِ مصر نے کہا کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے اپنی صداقت میں بولنے کے لیے۔ حضرت یوسفؑ نے ارد گرد سوالیہ آنکھوں سے ارد گرد دیکھا لیکن ان کو کچھ نظر نہیں آیا سوائے ایک چھوٹے بچے کے۔ پھر حضرت یوسفؑ نے دعا کی کہ اے خدا! اب تو ہی میری عزت کی حفاظت کرنے والا ہے۔یہ دعا پوری ہوئی تو اس بچے نے بولنا شروع کر دیا۔ اس نے کہا کہ اگر اس کا کُرتا  آگے سے پھٹا ہوا ہو تو یہ عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔ اور اگر اس کا کُرتا پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو عورت جھوٹی اور یوسف سچا ہے۔عزیزِ مصر اس گواہی کو سننے کے بعد  دیکھتا ہے کہ کُرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو اس کو حضرت یوسفؑ کی پاک دامنی پہ کوئی شک نہ رہا اور پھر اس نے حضرت یوسفؑ سے معافی مانگی اور اپنی بیوی زلیخا سے کہا کہ تو ہی گناہ گار  ہے۔ اس کے بعد یہ سارا واقعہ پورے شہر میں پھیل گیا۔ یہاں تک کہ شہر کی عورتیں زلیخا کو طعنے دینے لگی۔  پھر زلیخا نے ان ساری عورتوں کو اپنے گھر دعوت دی اور حضرت یوسفؑ کو بہترین  لباس  پہناکر تیار کیا۔ زلیخا نے ساری عورتوں کو ایک ایک چھری دی پھل وغیرہ کاٹنے کے لیے۔جب وہ عورتیں پھل کاٹنے لگیں تو  زلیخا نے حضرت یوسفؑ  کو حکم دیا کہ عورتوں کے سامنے آئیں۔ جیسے ہی حضرت یوسفؑ کمرے میں آئے اور ان کا نورانی چہرا ان عورتوں نے دیکھا تو ان کا اپنا ہوش ہی نہ رہا اور انھوں نے اپنا ہاتھ زخمی کر لیا اور انھیں تکلیف کا ذرا احساس نہ رہا۔ زلیخانے کہا یہی ہیں جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں۔  پھر اس نے حضرت یوسفؑ کی پاک دامنی کی تعریف کرتے ہوئے کہا میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا، لیکن یہ بال بال بچا رہا۔ اور کو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں ، اگر یہ نہ کرے تو یقیناً قید کر دیا جائے گا اور بے شک یہ بہت ہی بے عزت ہو گا۔  ان سب عورتوں نے ان کو اپنی ملکہ کی فرماں برداری کے لیے کہا لیکن آپ نے سکتی سے انکار کیا اور وہاں سے جا کر اﷲ سے دعا کی کہ"اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں، اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے۔ اگر تو نے ان کا فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گااور مالکل نادانوں سے جا ملوں گا"۔ حضرت یوسفؑ کی بے گناہی ثابت ہو جانے کے باوجود ان کو قید خانے میں  ڈال دیا گیا۔ اسی جیل میں دو اور نوجوان تھے۔ ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا بادشاہ کا باورچی تھا۔ وہ کسی جرم میں مشکوک تھے تو بادشاہ نے ان کو قید کر لیا۔ جب ان کی ملاقات حضرت یوسفؑ سے ہوئی تو وہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ دونوں جب رات کو سوئے تو ان کو ایک عجیب خواب آیا۔ انھوں نے صبح حضرت یوسفؑ سے اپنا خواب بیان کیا۔ ساقی نے کہا انگوروں کی بیل کی تین شاخیں ہیں، ان میں پتے اُگ آئے اور انگوروں کے گھچے لگ کر پک گئے ہیں۔ اس نے انھیں لے کر بادشاہ کے پیالے میں نچوڑا اور اسے وہ مشروب پلا دیا۔ باورچی نے دیکھا کہ اس کے سر پر روٹیوں کی تین ٹوکڑیاں ہیں اور پرندے سب سے اوپر کی ٹوکڑی سے کھا  رہےہیں۔ حضرت یوسفؑ نے دونوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی ،ساقی سے کہا کہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تمہاری نوکری بہال ہو جائے گی۔ باورچی سے کہا کہ تمہارا بادشاہ تمہیں پھانسی پہ چڑھا دے گا اور پرندے تمہارے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ حضرت یوسفؑ نے جیسا کہا ویسا ہی ہوا۔ باورچی کو بادشاہ نے پھانسی پہ چڑھا دیا اور ساقی کی رہائی کا وقت قریب آگیا۔ حضرت یوسفؑ نے اس ساقی کو پاس بلایا اور کہا کہ جب یہاں سے رہا ہو جانا توپھر اپنے بادشاہ کو میرے بارے میں   بتانا۔ جب وہ شخص رہا ہوا تو شیطان نے اس کے ذہن سے وہ بات بھلا دی جو اسے حضرت یوسفؑ نے کہی تھی اور پھر حضرت یوسفؑ طویل عرصہ جیل میں قید رہے۔ جاری ہے۔۔۔


























Monday, 17 June 2019

Harat Yousuf (A.S)







حضرت یوسفؑ کا بقیہ قصہ

جب وہ قافلہ روانہ ہوا اور حضرت یوسفؑ کے بھائی گھر کو روانہ ہوے تو قافلے کے سرادر نے ایک غلام کو حضرت یوسفؑ کی نگرانی پہ رکھا دیا کیونکہ اس کو پتہ تھا کہ یہ کوئی عام شخص نہیں اور یہ بھی لگتا تھا کہ کہیں یہ سرکش غلام نہ ہو۔ راستے میں ان کا گزر ایک قبرستان سے ہوا جہاں حضرت یوسفؑ کی والدہ کی قبر تھی۔ حضرت یوسفؑ اپنی والدہ کی قبر کے سامنے گرگئے اور فریاد کی کہ اے مادرِ گرامی آپ تو یہاں کفن میں منہ چھپائےہوئے ہیں ذرا سر اٹھائیں اور دیکھیے کہ میں گلے میں طوق ہے ،میرے پاوں پہ زنجیر ہے، میں نے غلاموں کا لباس پہنا ہےاور آپ کا بیٹا آپ کی زیرت کے لیے آیا ہے۔ اس قبر سے آواز آئی کہ اے فرزند! تیری باتوں نے میرے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے،میرے جگر کو پارہ پارہ کر دیا ہےبیٹا ہر بلا اور مصیبت میں صبر کراﷲ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو جو غلام حضرت یوسفؑ کے اوپر نظر رکھتا تھا اس نے صبح اٹھ کے دیکھا تو حضرت یوسفؑ غائب تھے۔ اس نے باہر جا کے دیکھا تو حضرت یوسفؑ اپنی والدہ کے قبر کے پاس بیٹھے تھے۔ اس نے کہا کہ تمہارے آقاؤں نے سچ کہا تھاتو تو واقعی بہت سرکش ہے، تو شاید بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ ساری باتیں اس نے بہت تلخ  لحجے میں کیں لیکن حضرت یوسفؑ نے منہ سے کچھ نہ کہا لیکن دل سے ایک ایسی آہ نکلی کے فرشتوں میں شوروغل برپا ہو گیا، سیاہ آندھیاں چلنے لگیں ، بجلی چمکنے لگی اور عذاب جیسی کیفیت ہو گئی۔ قافلہ والوں نے یہ دیکھا تو وہ گھبرا گئےاور وہ غلام جس نے حضرت یوسفؑ کو باتیں سنائیں تھیں دربار میں حضرت یوسفؑ کو لے کر آیااور کہنے لگا کہ یہ آفت میری وجہ سے آئی ہے۔ قافلے کے سردار نے حضرت یوسفؑ سے پوچھا کیا تو بھاگنا چاہتا تھا۔ حضرت یوسفؑ نے کہا کہ میں اس طوق اور زنجیر میں کہاں جا سکتا ہوں۔ میں نے تو اپنی ماں کی قبر دیکھ کر اپنے آپ کو اونٹھ کی پُشت سے گرایا تھااور اپنی ماں کی قبر سے لپٹ کر رو رہا تھاکہ اس غلام نے آ کر میرے سے اس تلخ لہجے میں بات کی۔ قافلے والوں نے حضرت یوسفؑ سے التجا کی کہ خدا کے لیے یوسف اس عذاب کے ٹل جانے کی دعا کرو۔ جب حضرت یوسفؑ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائےتو وہ عذاب ختم ہو گیا۔ قافلے والے یہ منظر دیکھ رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ اب تو یہ ثابت ہو گیا کہ آپ کوئی عظیم شخص ہیں۔ قافلے کے سرادار نے حکم دیا کہ اس کے ہاتھوں سے زنجیریں اتاردو اور اس کے گلے سے طوق اتار دو۔ اس کا لباسِ غلامی بھی اتار دو اور اسے لباسِ  فاخرہ پہناؤ۔ اب یہ غلاموں کی طرح زمین پہ نہیں چلے گا، اب یہ عزت و احترام اسے اونٹ پہ سوار کیا جائے۔ اب یہ قافلہ دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ قافلہ مختلف مراہلوں سے ہوتا ہوا مصر پہنچ گیا۔مصر کے بادشاہ کا نام ریان بن ولید تھا اور ۔  جب ادھر حضرت یوسفؑ پہنچے تو پورے مصر میں ان کے حسن کا چرچا ہونے لگا۔ اس قافلے کے سردار نے اعلان کروا دیا کہ میں اس غلام کو بیچنے کے لیے لاؤں گا۔ یہ اعلان سنتے ہی ہر شخص جو خرید سکتا ہو یا نہ خرید سکتا ہو اس دن کا انتظار کرنے لگا جس نے حضرت یوسفؑ کو بیچنے کے لیے لانا تھا۔ جب وہ دن آیا جس دن انھیں بیچنا تھا آ گیا۔ قافلے کا سردار حضرت یوسفؑ کو لے کر آیا۔ ہر شخص ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کے قیمت ادا کر رہا تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ قیمت اتنی بڑھ گئی کہ کوئی عام آدمی انھیں نہ خرید سکتا۔ اس طرح کوئی فیصلہ نہ ہو پایا۔ پھر ان کو ایک تراذو میں بیٹھایا گیا اور کہا گیا اب دوسرے پلڑے میں اس کے وزن کے مطابق سونے ،جواہرات اور اشرفیہ رکھیں جائیں۔  اس وقت مصرکے وزیرِ اعظم کا نام تھا عزیزِمصر۔ اس کا کوئی بیٹا نہ تھا۔ وہ بھی ان خریداروں میں شامل تھا۔ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ شخص میرا وارث بن جائے۔ اب عزیزِ مصر نے دوسرے پلڑے میں اپنا خزانہ رکھنا شروع کیا۔ سب سے پہلے اس نے چاندی رکھنا شروع کی۔ تراذو پہ کوئی فرق نہ پڑا۔ مزید چاندی منگوائی وہ رکھی لیکن تب بھی ترازو کو کوئی فرق نہ پڑا۔ عزیزِ مصر نے ساری چاندی رکھدی جتنی اس کے پاس تھی لیکن تب بھی تراذو کو کوئی فرق نہ پڑا۔ اسی طرح سونا رکھا گیا اور پھر ہیرے رکھے گئے۔ ایک وقت ایسا آیاکہ عزیزِ مصر نے اپنا سارا خزانہ اس پلڑے میں رکھ دیا لیکن تب بھی تراذو پہ کوئی فرق نہ پڑا۔ حضرت یوسفؑ اس تمام واقعہ کےے دوران بڑے اطمینان سے بیٹھے تھے۔ انھوں نے عزیزِ مصر سے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ عزیزِمصر نے کہا آم کو تول رہے ہیں۔ حضرت یوسفؑ نے پوچھا کس چیز میں؟ عزیزِ مصر نے کہا ہیرے، جواہرات، سونا ، چاندی وغیرہ میں۔ پھر حضرت یوسفؑ نے کہا اچھا! دین کو دنیا کہ ہم وزن کر رہے ہو۔ عزیزِ مصر پریشان ہو گئے۔ وہ سوچنے لگے کہ اب میں حضرت یوسفؑ کو خرید نہیں سکتا ہوں۔ حضرت یوسفؑ نے کہا کہ گھبراؤ نہیں، ایک کام کرو قلم ،دوات اور ایک کاغذ لے آؤ۔ قلم ،دوات اور کاغذ لائے گئے اور حضرت یوسفؑ نے اس کاغذ پہ لکھا﷽ ۔ پھر انھوں نے کہا کہ دوسرے پلڑے میں سے خزانہ نکال دو۔ عزیزِ مصر حیران ہوئے کہ خزانہ تو اور رکھنا چاہیےتاکہ ترازو پہ تھوڑا فرق آئے۔ حضرت یوسفؑ نے کہا گھبراؤ نہیں اتار دوخزانہ۔ سارا خزانہ اتاڑ دیا گیااور دوسرے پلڑے کو خالی کر دیا۔ حضرت یوسفؑ نے کہا یہ جو پرچی ہے(جس پہ ﷽ لکھا تھا)  اس کو رکھ دو دوسرے پلڑے میں۔ عزیزِ مصر حیران کہ یہ کیا کہہ رہا ہے لیکن پھر بھی اس نے وہ پرچی دوسرے پلڑے میں رکھ دی۔ جیسے ہی عزیزِ مصر نے وہ پرچی اس پلڑے میں رکھی، دونوں پلڑے برابر ہو گئے۔ جب دونوں پلڑے برابر ہوئے تو عزیزِ مصر کو بہت خوشی ہوئی۔ اس نے حضرت یوسفؑ کو خرید لیا اور بہت خوشی سے حضرت یوسفؑ کو اپنے محل میں لے گئے۔عزیزِ مصر جیسے ہی اپنے محل پہنچا اس نے اپنی بیوی ذولیخا کو بُلایا اور کہا کہ یہ شخص ہمارا وارس 
بنے گا، اس کا خیال رکھنا۔  جاری ہے۔۔۔




























Monday, 10 June 2019

Hazrat Yousuf (A.S)




حضرت یوسفؑ کابقیہ قصہ

جب حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال دیا اور ان کے بھائی ان کو چھوڑ کر چلے گئے تو حضرت جبرائیلؑ کو اﷲ نے بھیجا۔ حضرت جبرائیلؑ نے کہا "میں رب العالمین کی طرف سے آپ کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ فرما رہا ہے "اے یوسف مطمئین رہو ہم نے تمہیں ضرور سلطنت عطا کرنی ہے"۔ حضرت یوسفؑ کو یہ پیغام دے کر حضرت جبرائیلؑ چلے گئے۔ دوسری طرف حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے حضرت یوسفؑ کی قمیض کو ایک جانور کے خون سے آلودہ کیااور اپنے والد کے پاس اس قمیض  کو لے کر چلے گئے۔ وہاں پہنچتے ہی سب نے بڑی اداس شکلیں بنا لیں۔ انھوں نے کہابابا جان! ہم کیا بتائیں قیامت گزر گئی ہمیں بڑا افسوس ہے ایک عجیب و غریب واقعہ ہو گیااور ہم آپ کی امانت کی حفاظت نہ کرسکے۔ حضرت یعقوب نے پوچھا کیا ہوا۔ بھائیوں نے کہا بابا جان ہم سے دوڑ لگا رہے تھے، ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس حفاظت کے لیے چھوڑا ہوا تھا لیکن اچھانک سے ایک بھیڑیا آیا اور یوسف کو کھا گیا۔ پھر انھوں نے حضرت یوسف ؑ کا خون آلودہ کرتا اپنے والد کو پیش کیا۔ حضرت یعقوبؑ نے کہا کہ جھوٹ بول رہے ہو بھیڑیے نے نہیں کھایاتم جھوٹی کہانی سنا رہے ہو۔ اگر بھیڑیے نے کھایا ہوتا یوسف کو تو یہ کرتا بُری طرح سے پھٹا ہوا ہوتا۔ بیٹے خاموش ہو کر چلے گئے اور پھر حضرت یعقوب اتنا روئے کہ ان کی بینائی چلی گئی۔ پھر حضرت یعقوب نے اﷲ سے دعا کی کہ موت کے فرشتے کو میرے پاس بھیج۔ دعا قبول ہوئی اور جب موت کے فرشتے نیچے آئے تو حضرت یعقوبؑ نے ان سے پوچھا کیا تم نے میرے یوسف کی روح قبض کر لی ہے۔ موت کے فرشتے نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے یوسف کی روح قبض نہیں کی، یوسف زندہ ہے۔ اس کے بعد حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تمہاری سچائی تب ثابت ہوئے گی جب تم اس بھیڑیے کو میرے پاس لے کر آؤ گےجس نے تمہارے مطابق یوسف کو کھایا ہے۔ سارے بھائی گئے اور جنگل سے ایک بھیڑیے کو اٹھا کے لے آئے۔ جب حضرت یعقوبؑ کے بیٹے بھیڑہے کو لے کر آئے تو حضرت یعقوب نے بھیڑیے سے پوچھا کہ کیا تو نے میرے یوسف کو کھایا ہے۔ بھیڑیے نے کہا میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں ۔ ہم پر انبیا اور اولیا کا گوشت حرام ہے۔ میں تو آپ کے ایک دنبے کےقریب نہیں جا سکتاآپ کے بیٹے کو کیسے کھا سکتا ہوں۔ آپ اپنے بیٹوں سے پوچھ کر بتایے کہ کیا میں نے آپ کے بیٹے کو کھایا ہے۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں سے یہی پوچھا۔  بیٹوں نے جواب دیا ہم نے دیکھا نہیں لیکن اس وقت جنگل میں ایک ہی بھیڑیا پھر رہا تھا اس لیے ہمیں لگا کہ یہی ہو گا۔ پھر حضرت یعقوبؑ نے بھیڑیے سے کہا کہ میں سب جانتا ہوں کے تم بے خطا ہو۔ بھڑیے نے حضرت یعقوبؑ سے کہا کہ میرا ایک بھائی ایک دوسرے شہر میں رہتا ہے۔ میں اپنے بھائی سے ملنے جا رہا  تھا تو آپ کے بیٹے مجھے یہاں اٹھا کے لے آئے۔ یہ سن کر حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ دیکھو ایک طرف یہ بھیڑیا ہے جو اپنے بھائی سے ملنے جا رہا ہے اور ایک طرف تم لوگ ہو جو اپنے بھائی کو بیاباں میں چھوڑ آئے ہو۔ دوسری طرف حضرت یوسفؑ اﷲ کی مدد اور رحمت کا انتظار فرما رہے تھے۔  ایک قافلہ جو مصر جا رہا تھا اپنا راستہ بھول گیا اور وہ قافلہ اس کنوے کے پاس پہنچا۔ ادھر انھوں نے پانی کے لیے اپنے ایک ساتھی کو بھیجا جو وہاں سے پانی لے آئے۔ جب اس آدمی نے پانی لینے کو لیے ڈول کو لٹکایا تو حضرت یوسفؑ نے اس رسی کو پکڑ لیا۔ جب اس آدمی نے ڈول کھینچا تو اسے وہ دول بہت بھاری محسوس ہوا۔ جب اس نے دیکھا تو پانی کے ساتھ ایک بہت خوبصورت لڑکا بھی آیا تھا۔ اس آدمی نے سب کو بُلایا اور کہا کہ آؤ دیکھو یہ کیا منظر ہے۔ قافلے والے حیرت میں پڑ کر سوچنے لگےکہ یہ ہوا کیا ہے۔ اتنی ہی دیر میں حضرت یوسفؑ کے بھائی آ گئے اور بولے یہ ہمارا غلام ہے اور کل یہ کنوے میں گِر گیا تھا ہم نے اسے نکالنے کی کوشش کی لیکن ہم ناکام ہو گئے آج ہم پھر آئیں ہیں اس کو نکالنے کے لیے لیکن تم لوگوں نے تو اسے پہلے ہی نکال لیا ہے۔ قافلے والوں نے کہا کہ یہ تمہاراغلام ہو گا لیکن ابھی ہم نے اس کی جان بچائی ہے اس لیےاس پہ حق ہمارا ہے۔ لیکن اگر یہ تمہارا غلام ہے بھی تو ہمیں اس کو بیچ دو۔ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے حضرت یوسفؑ کا سودا کر دیااور ان کو بیچ دیا۔ جب حضرت یوسفؑ کو بیچ دیا گیا تو ساتھ ہی ان کے بھائیوں نے کہا کہ یہ بہت سرکش غلام ہے۔ احتیاط کرنا یہ کہیں بھاگ نہ جائے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ تم اس کے گلے اور پیروں میں زنجیریں اور طوق ڈال دو۔ قافلے کے سردار نے یہی کیا۔ زنجیریں اور طوق بلائیں گئیں اور حضرت یوسفؑ کو پہنا دی گئیں۔ ساتھ ہی انہیں غلاموں کا لباس بھی پہنا دیا ۔ حضرت یوسفؑ رونے لگے۔ قافلے کے سردار نے حضرت یوسفؑ سے بڑے عجیب لہجے میں پوچھا اے غلام تو رو کیوں رہا ہے، کیا تو جانتا نہیں ہے کہ ایک سرکش غلام کی یہی سزا ہے، اس کو ایسے ہی رکھا جاتا ہے۔ حضرت یوسفؑ نے جواب دیا میں اس زنجیر اور اس طوق کو دیکھ کر تھوڑی رو رہا ہوں۔ سردار بولا پھر کس چیز پہ رو رہا ہے۔ حضرت یوسفؑ نے کہا میں تو اس وقت کو یاد کر کے رو رہا ہوں کہ جب کائنات کا سردار اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ سارے گناہ گار بندوں کو پکڑ کر ان کے گلے میں آگ کے طوق اور زنجیریں ڈال دو کہ اس نے ہماری اطاعت سے سرکشی کی ہےاس وقت کی عالم ہو گا۔ قافلے کے سرادر نے دل ہی دل میں کہا کہ یہ جو کنوے سے نکلا ہے کوئی معمولی انسان نہیں ہے۔ اس نے حضرت یوسفؑ سے کہا ابھی خاموش رہو، یہ سب ہم تمہارے آقاؤں کو دکھانے کے لیے کر رہے ہیں جب یہ چلیں جائیں گے تو میں یہ طوق اور زنجیریں ہٹا دوں گا۔ اس کے بعد وہ لوگ اپنے سفر کے لیے روانہ ہو گئے۔
جاری ہے۔۔۔



























Monday, 3 June 2019

Hazrat Yousuf (A.S)





حضرت یوسفؑ

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ کے دو بیٹے تھے۔ ایک تھے حضرت اسماعیلؑ اور دوسرے تھے حضرت اسحاق۔ حضرت محمدﷺ حضرت اسماعیل کی نسل میں سے ہیں اور حضرت اسحاق کے بیٹے تھے حضرت یعقوبؑ تھے اور ان کے بارہ بیٹے تھے جن میں سے ایک حضرت یوسفؑ تھے ۔
ایک دن یوسفؑ اپنے والد کے پاس آئے اور کہنے  لگے کہ "اے میرے والدگرامی! میں نے خواب میں گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھاہے، جو مجھے سجدہ کر رہے ہیں"۔  جب حضرت یعقوب نے یہ بات سنی تو کہا "اے میرے بیٹے اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرناکیونکہ یہ سب تم سے حسد کرتے ہیں، یہ تمہارے خلاف ہو جائیں گے"۔ پھر انھوں نے کہا کہ "بیٹا اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب فرمائے گا اور تمہیں باتوں کے انجام تک پہنچائے گااور خابوں کی تعبیر کرنا سکھائے گااور تم پر اور اولاد ِ یعقوب پر اپنی نعمت فرمائے گا"۔ کسی نہ کسی طرح حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کو ان کے خواب کے بارے میں پتا چل گیا۔ وہ سب بھائی سوائے ایک کے جو ان کا سگابھائی بنیا مین تھا پہلے ہی حضرت یوسفؑ سے جلتے تھے کیونکہ ان کے والد حضرت یعقوبؑ حضرت یوسفؑ سے بہت محبت کرتے تھے اور اس خواب کی وجہ سے ان کے بھائی حضرت یوسف سے اور حسد کرنے لگے۔ سب بھائیوں نے کہا کہ اب یوسف سے نجات پانی ہےتاکہ ہمارے والد ہم سے زیدہ پیار کریں۔ کسی نے کہا کہ یوسف کو قتل کر دو، کسی نے کہا کہ یوسف کو دور کہیں چھوڑ آؤ وغیرہ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ ہے تو ہمارا بھائی تو اس کو قتل نہیں کرتے کسی کنوے میں ڈال دیتے ہیں، کوئی قافلہ جب اس کنوے سے پانی پینے لگے گا تو اس کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے جائے گا۔ سارے بھائیوں نے اس مشورے کو پسند کیا اور اسی پر عمل کیا۔ ایک دن یہ سارے بھائی منصوبہ بندی کرنے کے بعد اپنے والد کے پاس گئے اور ان کے سامنے حضرت یوسفؑ سے بہت پیار کیا اور کہا کہ آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم یوسف کو اپنے ساتھ لے کر کھیلنے جائیں شہر سے باہر۔انھوں نے کہا کہ آپ ہم پر بھروسہ کریں ہم یوسف کو کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ حضرت یعقوبؑ نے کہا کہ میں یوسف کے بغیر بہت غمگین ہو جاؤں گا میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور مجھے خطرہ ہے کے تم اس کے ساتھ کوئی لاپرواہی کرو گے، مجھے خطرہ ہے کہ کہیں اس کو کوئی بھیڑیا نہ کھا جائے۔ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے کہا کہ بابا جان ہم پر بھروسہ کریں ہم طاقتور لوگ ہیں ہم یوسف کا بہت خیال رکھیں گے۔ بہت اسرار کے بعد حضرت یعقوبؑ نے انھیں حضرت یوسفؑ کو لے کر جانے کی اجازت دے دی اور ساتھ کہا کہ دیکھو  یوسف تمہارے پاس امانت ہے اس کا خیال رکھنا۔ اور پھر حضرت یعقوب ؑ نے بڑے دکھی دل سے حضرت یوسفؑ کو رخصت کیا۔ جاتے وقت حضرت یوسفؑ کے بھائی ان کو بہت پیار کر رہے تھے لیکن جیسے ہی وہ تھوڑا دور گئے اور ان کو تسلی ہوئی کہ اب ان کے والد ان کو نہیں دیکھ رہےتو انھوں نے حضرت یوسفؑ کے ساتھ بدتمیزی کی اوران کو ڈانٹا۔ حضرت یوسفؑ کی عمر اس وقت کم تھی ۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انھوں نے اپنے بھائیوں سے پوچھا کہ "میں نے تم لوگوں کا کیا بگاڑا ہے"؟۔ ان کے بھائیوں نے جواب دیاکہ جو تمہارے خواب میں سورج ، چاند اور ستارے آئے تھے ان کو کہو کہ تمہاری مدد کریں۔ حضرت یوسفؑ کو اپنے بھائیوں کی اس بات سے بہت دُکھ پہنچا ۔    پھر تھوڑی دیر بعد وہ کنواں آ گیا جس میں حضرت یوسفؑ کو ڈالنا تھا۔ حضرت یوسفؑ  کو جب کنویں میں ڈالنے گے تو ان کی قمیض لے لی ان کے بھائیوں نے اور ان کو کنویں میں ڈالنے کے بعد چلے گئے۔ جاری ہے۔۔




























Sunday, 26 May 2019

National Anthem of Pakistan.








Summary


In the national anthem of Pakistan, Hafiz Jalhandri said that this blessed beautiful sacred land is the symbol of its people right decision. It is the inspiration for our future. It is under the protection of Allah Almighty. This flag of crescent and star, represent our past and glory of our present. The order of this blessed land is the might of brotherhood. May the nation, the country, and the state, blessed the goal of our ambition. It will stay bless and happy always. 




















Saturday, 27 April 2019

Cricket game.







Cricket

Sports:

Sports are physical education for early development. Activity needing physical effort and skill done as a competition according to rules are called sports. The skills learned from sports contribute to the entire development of young people. Through participation in sports, people learn about honesty, teamwork, respect, etc. There are many sports played in worldwide. The top five sports in the world are football, cricket, basketball, hockey, and tennis.

What is Cricket?

As we all know cricket is a national sport of many countries like England, Australia, Bahamas, Bermuda, Barbados, etc. It was started playing in late 16th century. International matches started playing in 1844. Test cricket begins in 1877. First cricket was started playing in England.

Records:

First world cup of cricket (in 1975) was won by West Indies. The Second world cup (in 1979) was also won by West Indies. The third world cup (in 1983) was won by India. The top five world cups are:
1.   The world cup of 1987 Australia vs England (won by Australia).
2.   The world cup of 1992 Pakistan vs England (won by Pakistan).
3.   The world cup of 2011 India vs Sri Lanka (won by India).
4.   The world cup of 1983 India vs West Indies (won by India).
5.   The world cup of 1996 Sri Lanka vs Australia (won by Sri Lanka).
The current world cup winner played in 2015 was won by Australia.

How to play cricket?

Cricket is a bat and ball game played between two teams. Players take different positions in a cricket stadium. They are ballers, batsmen, all-rounders, fielders and wicket keeper. Each team consists of 11 players. One team bat and another ball. It is decided by doing the toss. The team that balls, it’s all players are present in the ground. One ball, others do wicket keeping and the rest ones do fielding. There are two players present in the ground from another team. When baller balls, the batsman hit it and score a number by running or making six or four. If his hit is high then he can be caught out or if he misses a ball, he can be bold out. If he makes a run and could not reach his position, he can be run out by baller or fielder. The team who bats give a target to another team for beating it. If the other team beats the target, they will be won. In the case of a tie, there will be given a super over. 

Champions trophy:

The first champions trophy of cricket (in 1998) was won by South Africa. The second champions trophy of cricket (in 2000) won by New Zeeland. The third champions trophy (in 2002) the trophy was shared between India and Sri Lanka. The current champion of Champions trophy is Pakistan national cricket team.




























Saturday, 20 April 2019

عدل و احسان


عدل و احسان

عدل کے معنی:

عربی زبان میں عدل اسے کہتے ہیں کہ کسی بوجھ کو دوبراربر حصوں میں اس طرح بانٹ دیا جائے کہ ان دونوں میں ذرا سی بھی کمی بیشی نہ ہو۔ عدل سے مراد یہ ہے کہ جو شخص کسی کے ساتھ برائی کرے اس کے ساتھ اتنی ہی بُرائی کی جائے۔ اس طرح ہر کام مناسب وقت پر کرنا بھی عدل کی ایک صورت ہے۔ عدل اﷲکی صفت ہے۔ عدل کی ضد ظلم ہے جس کے معنی ہیں کسی شخص کی حق تلفی کرنا یا اس کے ساتھ زیادتی کرنا، اس کی بُرائی کے مقابلے میں زیادہ بُرائی کرنا یا کسی کام کو غیر مناسب وقت پر کرنا۔

احسان کا معنی:

احسان یہ ہے کہ کسی کے ساتھ بُرائی کے بدلے بُرائی نہ کی جائے بلکہ اس کی بُرائی معاف کر دی جائے اور اسے درگزر کر دیا جائے۔ احسان یہ بھی ہے کہ نیکی میں پہل کی جائے۔ نیکی کے بدلے میں زیداہ نیکی اور بُرائی کے بدلے میں بھی بھلائی ہی کی جائے۔ کسی کام کو خوبصورت اور بہتر طریقے سے کرنا بھی احسان ہے۔

عدل و احسان کی مختلف صورتیں:

عدل و احسان کی بہتر شکل تو یہ ہے کہ ہم حسنِ سلوک کریں۔ کوئی زیادتی کرے تو اسے معاف کر دیں، کوئی بھلائی کرے تو اس کے ساتھ بہتر بھلائی کریں، اسر اگر یہ نہ کر سکیں تو پھر کم از کم اس کے انصاف اور عدل کریں۔ اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کریں لیکن جہاں معاملہ کسی ایسی زیادتی کا ہو جس سے ظالم کی حوصلہ افزائی ہوتو وہاں احسان کرنے کے بجائے معاملہ عدالت کے سپرد کر دینا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ اس زیداتی سے محفوظ رہیں۔ بُرائی کو کھُلی چھٹی نہ دیں۔ عدل  پہ ہی نظامِ کائنات کی بنیاد ہے اور اسی کے ذریعے نسانی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔

نبی کریمﷺ:

نبی کریمﷺ کی پوری زندگی عدل و احسان کا نمونہ تھی۔ اپﷺ نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔ صحابہ کرامؓ کو آپﷺ نے فرمایا "آپس میں ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو معاف کردیا کرو"۔ آپﷺ نے ہمیسہ اپنے دشمنوں کو معاف کیااور ان کے لیے بھلائی کی دعا فرمائی۔
اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ "عدل کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے"۔ (سورۃ المائدہ :8)
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
ترجمہ "احسان کرو اﷲتعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے"۔ (سورۃ البقرۃ:195)




























Tuesday, 9 April 2019

The game Hockey.






Hockey

Sports:

Sports are physical education for early development. Activity needing physical effort and skill done as a competition according to rules are called sports. The skills learned from sports contribute to the entire development of young people. Through participation in sports, people learn about honesty, teamwork, respect, etc. There are many sports played in worldwide. The top five sports in the world are football, cricket, basketball, hockey, and tennis.

What is hockey:

As we all know that Hockey is the national game of Pakistan and India. It is played throughout the country. Many of the countries of the world started playing hockey in the 19th century. It became very popular. British soldiers brought this game to the subcontinent in the 19th century. Pakistani women also took part in this game.

Records:

Between 1956 and 1986, Pakistan recorded extraordinary conquests which are still unmatched. Pakistan won the Olympic and world cup crowns. The Asian game's title won six times by Pakistan, Olympic and World cup crowns, three of the world precious titles. Pakistan won the champions trophy. No other hockey-playing country has achieved this victory in the history of games so far.

How to play?

Players take different positions in hockey ground. They are attackers, mid defenders, defenders and a goalkeeper who remains in team’s shooting circle, protecting the area. Each team consisting of 16 players, 11 on the field and 5 in the interchange area. Players use their hockey sticks to control, push, pass and hit the ball. The objective of the game is to get the ball into the opposing team’s goal. The team that scores the most goal wins the match. The match consists of two periods of 35 minutes with a short half-time break of about 5 to 10 minutes. If there is a tie so two extra time periods of seven and a half minutes can be given. This is called the golden goal rule. If there is still a tie penalty strokes decide a winner.

Titles won by Pakistan:

The following titles are won by Pakistan. The first Asian games hockey title was won by Pakistan (in 1958 at Tokyo). The first world cup was won by Pakistan (in 1971 at Barcelona). The first junior world cup was won by Pakistan (in 1978 at Versailles). The first champion trophy was won by Pakistan (in 1978 at Lahore). The first Asian cup was won by Pakistan (in 1982 at Karachi).




















Saturday, 30 March 2019

Allama Iqbal poetry. Mountain and the squirrel (پہاڑ اور گلہری).



Allama Iqbal poetry
علامہ اقبال شاعری
Poem= Mountain and Squirrel from book Bang e Dara

نظم پہاڑ اور گلہری کتاب بانگِ دراسے




The summary

In this poem, Allama Iqbal said that we don’t have to degrade someone if a person has fewer qualities or something less. He took the example of a mountain and a squirrel. In this poem, Iqbal said that a mountain asks from a squirrel that you are so small you can’t do anything. I am taller than you, see where is a tall mountain and where is a small animal. After listening to the talk of the mountain, the squirrel says what happened than I am not like you, you are also not like me. You can’t climb on trees like me, and if you are saying this now show me how can you walk. Always remember that Allah Almighty can make anyone small and big. Some people are big and some are small this is the nature of Allah. Remember nothing in the world is useless and no one is bad in the whole world.