Get me outta here!

Friday, 21 December 2018

Hazrat Suleman (A.S)








Note: In this paragraph, it is stated that Hazrat Suleman(A.S) can understand and talk with the animals. He never missed a prayer. At that time there was the problem of water so for Waddu he wants water. That's why he takes a bird with him named hoopoeOnce he went somewhere after the Zohar prayer. Hazrat Suleman was sleeping at that time. When he woke up the time of Asar prayer came. he was founding hoopoe but didn't find. Then he became worried. Then he ordered to the eagle to find the hoopoe. When hoopoe came Hazrat Suleman was angry and ask hoopoe where were you. He replied sir, please offer Asar prayer its time is going. After offering it Hazrat Suleman again asked then hoopoe replied. To be continued) ....





حضرت سلیمانؑ

حضرت سلیمانؑ اﷲ کے پیارے نبی ہیں۔ ان کو پرندوں کی آواز سمجھنی آتی تھی۔ وہ ان پرندوں سے بات چیت بھی کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں بے شمار واقعات آئے لیکن ان میں سے ایک درج ذیل ہے:
حضرت سلیمانؑ اﷲ کے پیارے نبی تھے تو نماز نہیں چھوڑتے تھے۔ اس وقت پانی کے کچھ مثائل تھے۔ اس لیے وہ اپنے ساتھ ہد ہد جو کہ ایک پرندہ ہے لے کے پھرا کرتے تھےتاکہ وہ وضو کر سکیں۔ کیونکہ ہد ہد زمین کے نیچے سے بھی پانی کا بتا دیتا ہے کہ کہاں ہے۔
ایک دن ہد ہد ظہر کی نماز کے بعدکہیں دور چلا گیا۔ وہاں جہاں کوئی نہیں تھا۔ اڑتے اڑتے اس کو ایک خوبصورت باغ نظر آیا جس میں ایک اور ہد ہد بیٹھا تھا۔ ہدہد اپنے جیسے پرندے کو دیکھ کر خوش ہوا اور اس کے ساتھ جا کہ بیٹھ گیا اور اس سے باتیں کرنے لگا۔ ادھر وہ باتیں کر رہاتھا کہ وقت گزر گیا اور عصر کی آذان ہو گئی۔ حضرت سلیمانؑ ہدہد کو ڈھونڈ رہے تھے لیکن وہ ملا ہی نہیں۔ادھر سے ایک کوا بولا"دیکھو یہ کیسا بندہ ہے نماز ہی نہیں پڑھ رہا"۔ یہ سن کے حضرت سلیمانؑ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے ایک چیل کو بھیجا کہ ہدہد کو ڈھونڈ آؤ۔ چیل نے جا کہ ہدہد کو بلا لیا۔ ہدہد جب پہنچا تو عصر کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ "تم کہاں گئے تھے "۔ ہدہد نے جواب دیا کہ "حضور آ پہلے وضو کر لیں نماز کا وقت ختم ہو جائے گا۔"حضرت سلیمانؑ نے نماز پڑھی اور پھر ہدہد سے پوچھا۔ (جاری ہے)۔۔۔۔












Thursday, 20 December 2018

Goal of life







Goal

What is meant by a goal?

Goal meaning is a dream, like what we want to do is our goal. 
How to make goals and their types:
There are two types of goals. One long-term goal and second short-term goal. The long-term goal is what we have to become after 10 or 20 years and the short-term goal is the branches to achieve that long-term goal. The short-term goal is very important to achieve the long-term goal.

The way of goals:

     Plan goals because without plans the goal is a wish.
     Write goals always and remember them.
     Goals are always: “SMART”
     S= specific
     M= measurable
     A= achievable
     R= Real
     T= time bound

Steps of goals:

     Write goals with SMART
     Action
     Plan
     Focus
     Stuck

Goal percent

1% people write their goals.
4% people learn oral their goals.
15% of people think about their goals.
80% people didn’t know about goals.

















Tuesday, 18 December 2018

A story about Abdul Sattar Edhi








Abdul Sitar Edhi

Abdul Sitar Edhi is a founder of Edhi Foundation which is today running at the world’s largest ambulance service and for 24 hours. It also works in charitable hospitals and orphanages etc.

Childhood:

Abdul Sitar Edhi was born on 1st January 1928. From his young age, he loves to help poor people. From his young age, his mother was ill. His mother died when he was of 19. When the partition of India and Pakistan happened Edhi and his family migrated.

A story about Abdul Sitar Edhi:

When Edhi was a kid his mother gives two rupees for school. Then she said that Edhi takes one rupee your self and give one rupee to the child who didn’t take lunch. At that time the two rupees have many values. From that time he started loving people.

















Saturday, 15 December 2018

Hurdles






Hurdles of life

What is meant by hurdles?

Hurdles are the problems. The hurdles in life are the problems in life.

What are hurdles:

The problem is in our self we have to change it and the problems are:
 Blaming means is that declare someone else for your mistake.
Justifying means to prove your self to be right
Criticizing means to find the faults of someone in a bad way.

Example of hurdles:

The best example is of iceberg seen in the Titanic movie. It is 90% in the water and 10% above the water. That’s why the ship driver can’t control the ship because he saw only the 10% which was above water. That’s why we saw only the 10% problem which is in the people but the 90% problem is in our self. 

How to solve hurdles:

We don’t have to say that I can't do it. We have to say I can. If we focus on the problem we can't be successful.






Thursday, 13 December 2018

Hazrat Ibarhim (A.S)




حضرت اسماعیلؑ کی قربانی

Note: In this paragraph it is stated that how Hazrat Ibrahim will
become ready to sacrifice his only and the eldest son and how
Hazrat Ismail (the son of Ibrahim) ready to sacrifice himself.



اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو ایک اور آزمائش سے گزارا۔ پہلے ان کو حکم دیا کہ اپنے بیوی بچے کو کہیں دور چھوڑ آؤ جو جگہ ویران ہو۔ اب ان کو اپنے پہلے نوجوان بیٹے حضرت اسماعیلؑ  کی قربانی کرنے کا حکم آیا۔
ہوا یہ کہ حضرت ابراہیمؑ جب بوڑھے ہو گئے اور ان کو بیٹا جوان ہو کر آپ ؑ کا ہاتھ بٹانے لگ گئےتو حضرت ابراہیمؑ کو خواب آیا کہ اپنے ایک لوتے بیٹےکو اﷲ کی راہ میں قربان کردو۔ حضرت محمدﷺ کا ارشاد ہے" انبیا ءکا خواب وحی ہوتا ہے"۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے خواب کے بارے میں حضرت اسماعیلؑ کو بتایا اور ان سے پوچھا کہ "اب تمہاری رائے کیا ہے؟" ان کے بیٹے نے جواب دیا"ابا جان! آپ کو جو حکم ہوا ہے وہی کیجیے۔"جب دونوں نے حکم مان لیا تو حضرت ابراہیمؑ حضرت اسماعیلؑ کو ایک پہاڑی پہ لے گئے اور حضرت اسماعیلؑ کو ماتھے کے بل لٹا دیا تاکہ حضرت ابراہیمؑ حضرت اسماعیلؑ کی تکلیف دیکھ نہ سکیں۔ پھر حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیلؑ کے حلق پہ چھری پھیری، لیکن کچھ ن کٹ سکا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا"اے ابراہیمؑ! تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔" اور یہ کہتے ساتھ ہی اﷲ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کے بجائے وہاں دنبہ بھیج دیا اور حضرت اسماعیلؑ حضرت ابراہیمؑ کے پاس آ کے کھڑے ہو گئے۔ اسی لیے اس قربانی کو حج کا رکن قرار دے دیا گیا اور حاجی پر یہ قربانی فرض قرار دے دی گئی۔


























Tuesday, 11 December 2018

Social media









Social media

What is social media:

Social media is a short name of media elements like Facebook, YouTube, Google, Instagram, etc. Instead of saying their names we can speak its short form. In social media we can do social work like we can post our pictures, educational things etc.

Why are the uses of social media and what are its advantages?

It is useful because we can gain knowledge from here and also give knowledge. We can see that what others are doing and we can also share our thoughts, ideas, experience, we can stop others if they are doing bad work or useless things etc. From social media we can listen to big and highly educated professors and the most important thing in Facebook or Snap chat or Instagram etc. the people are friends from a rich man to poor man, all our friends like they represent their self as a brotherhood. 

Disadvantages of social media:

As we all know that if there are advantages of a thing there are also its disadvantages. The disadvantages are, weak of eyesight, don’t play outdoor games, don’t study, the people are doing hacking, frauds which are the great faults. We watch cartoons, movies, dramas instead of good videos like discoveries, speeches, projects etc.

What should we do:

We have to become a master in its advantages, we have to work on them not on disadvantages because we have reached on the top of disadvantages. So work hard and become successful by using social media.



















Saturday, 8 December 2018

Maze






Thursday, 6 December 2018

Zam Zam Water



Note: In this Paragraph, it is stated that how Zam Zam Water came. 


آبِ زم زم

اﷲ تعالیٰ نے اپنے تمام انبیا کرام کو بہت جگوں پہ آزمایا۔ ان میں سے حضرت ابراہیمؑ کو بہت بار آزمایا۔ ان میں سے ایک آزمائش درج زیل ہے:۔
جب حضرت اسماعیل پیدا ہو چکے تھے تو حضرت ابراہیمؑ کی زیادہ توجہ حضرت حاجرہ﷛اور حضرت اسماعیلؑ کی طرف ہونے لگی۔ یہ بات ان کی پہلی بیوی حضرت سارہ ﷛ سے برداشت نہ ہوئی ۔ انھوں نے حضرت ابراہیمؑ کو عرض کی کہ آپ  ان لوگوں کو کہیں اور چھوڑ آئیں۔ پھراﷲ نے بھی یہی حکم دیا تو وہ  حضرت حاجرہ﷛ اور حضرت اسماعیل ؑکولے کےکعبہ کے پاس مکہ مکرمہ لے گئے۔ اس وقت مکہ میں کوئی نہ رہتا تھا اور وہاں پہ پانی بھی نہ تھا۔ حضرت ابراہیمؑ اپنے ساتھ ایک پانی کا مشکیزہ اور کھجوروں  کا ایک تھیلا لے گئے تھے۔ انھوں نے وہاں پر وہ تھیلا اور مشکیزہ رکھ دیا اور اپنی بیوی حضرت حاجرہؑ اور اپنے بیٹے کوچھوڑ کر وہاں سے چلے گئے۔ چلتے چلتے حضرت ابراہیمؑ ایک گھاٹی پہ پہنچ گئے جہاں سے ان کا خاندان نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہاں پہ حضرت ابراہیمؑ نے دعا مانگی۔ حضرت حاجرہؑ پانی پیتیں اور حضرت اسماعیلؑ کو دودھ پلاتیں۔ جب وہ پانی کا مشکیزہ ختم ہو گیا تو حضرت اسماعیلؑ پیاس کی وجہ سے تڑپنے لگے۔حضرت حاجرہ ؑ  سے یہ تڑپ دیکھی نہ گئی اوربھاگی بھاگی گئیں۔ پہلے وہ سب سے قریب پہاڑ صفا پہ چڑھیں۔ وہاں سے انھیں کوئی نظر نہ آیا۔ پھر وہ مروہ تک پہنچیں اور اس پہ چڑھیں لیکن ادھر سے ان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے سات بار ایسا ہی کیا۔ جب وہ آخری چکر لگا رہیں تھیں توانھوں نے ایک آواز سنی۔ انھوں نے اپنے آپ کو کہا "چُپ"۔ پھر سے انھیں وہی آواز سنائی گئی۔ دیکھا تو ایک فرشتہ وہاں کھڑا تھا۔ اس فرشتے نے اپنی ایڑھی یا پَر سے زمین کھودی تو پانی نکل آیا۔ پھر حضرت اسماعیلؑ کی والدہ نے مشکیزہ بھر لیا۔ پھر فرشتے نے کہا کہ"آپ ہلاکت کا اندیشہ نہ کریں یہاں اﷲ کا گھر ہے جس کی تعمیر آپ کا بچہ اور  اس کا والد مل کر کریں گئیں۔ اﷲاپنے لوگوں کو ضائع نہیں ہونے دیاتا"۔اس وقت خانہ کعبہ کی زمین ایک بلند ٹیلے کی صورت میں تھی۔ سیلاب آتا تو اس کے دائیں بائیں سے گز جاتا۔اسی طرح وقت گزرتا رہا اور وہاں سے ایک قافلہ یا ایک خاندان گزرا۔ انہیں ایک پرندا منڈلاتا نظر آیا۔ وہ بولے"یہ تو پانی پر منڈلایا کرتا ہے۔ ہم تو جب اس وادی سے گزرتے ہیں تو یہاں پانی نہیں ہوتا"۔ انھوں نے اپنے دو آدمی بھیجے تو انھیں پانی نظر آیا۔ اس چشمہ کے پاس حضرت اسماعیل ؑکی والدہ موجود تھیں۔ ان لوگوں نے ان سے پوچھا "کیا آپ ہمیں اجازت دیتی ہیں کہ ہم یہاں خیمہ زن ہوں جائیں"۔ انھوں نے فرمایا"جی ہاں لیکن اس چشمے پہ تمہارا کوئی حق نہیں ہو گا"۔ لوگوں نے کہا"ٹھیک ہے"۔ ان لوگوں نے اپنے گھر والوں کو بھی بلا لیا اور وہاں کئی گھر بس گئے۔  اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ سال میں ایک چکر ان کے پاس لگایا کرتے تھے۔












Tuesday, 4 December 2018

Recipe of Cupcakes





Recipe of cupcake

Ingredients

White flour 1 cup or 7 tablespoons
Eggs 2
Sugar 1 cup grinded
Butter melted ½ cup
Vanilla essence ½ teaspoon
Baking powder 1 teaspoon
Salt pinch

Recipe


Dd backing powder in flour. Beat eggs nicely with fork or beater. Add sugar slowly and mix well. Add butter and again mix it. Add flour slowly and make a dough. Preheat the oven 360 degrees. Add mixture in cupcake tray (greased with oil). Cook till 20 minutes. Decorate them as you want. Your yummy cupcakes are here.  


















Saturday, 1 December 2018

Hazrat Ibrahim (A.S)


حضرت ابراہیمؑ کی حضرت سارہ﷛سے شادی

جب حضرت ابراہیم کا وہ نمرود والا قصہ ختم ہو گیا تو انھیں اﷲنے حکم دیا کہ آپ ہجرت کر لیں۔ حضرت ابراہیمؑ کافی دنوں تک چلتے رہے۔ ایک دن ان کو ایک شخص بھاگتا ہوا نظر آیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا ہوا"۔ اس شخص نے بتایا کہ ایک شہزادی ہے اور اس کا والد یعنی بادشاہ اس کی شادی کرانا چاہتا ہے اس لیے اس نے کہا کہ شہزادی ہر روز جا کر اس سلطنت میں سے کسی کہ گلے میں ہیروں کا ہار ڈالے گیاور وہ جس کے گلے میں بھی ڈالے گی اس کی شادی اس شہزادی سے ہو جائے گی۔ حضرت ابراہیمؑ بھی ادھر یہ سب دیکھنے گئے۔ ادھر گئے تو ایک لڑکی ان کو نظر آئی جس نے برکا پہننا ہوا تھا۔ آپؑ نے دیکھا کہ وہ چاروں طرف چکر لگاتی ہوئی آپؑ کے پاس آئی اور ان کے گلے میں وہ ہار ڈال دیا۔ سب لوگ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے کیونکہ حضرت ابراہیمؑ نے عام لباس پہننا ہوا تھا۔ پھر ان کو بادشاہ کے پاس لے گئے۔ ادھر بادشاہ نے حضرت ابراہمؑ کو مہمان خانے میں ٹھرایا اور کہا کہ کل شہزادی پھر سے باہر نکلے گی۔ اگلے دن بھی وہ ہاور حضرت ابراہیمؑ کے گلے میں تھا۔ بادشاہ نے پھر وہی عمل دہرایا۔ جب دو تین بار ایسا ہی ہوا تو بادشاہ نے آپؑ کی شادی کرا دی۔ اس کے بعد آپؑ نے اپنے ساتھ گزرا ہوا ہر ایک قصہ حضرت سارہ کو سنایا اور فرمایا کہ"میں یہ سلطنت نہیں لے سکتااور یہ کہہ کہ وہ دانوں ادھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے اور 
ایک سادہ زندگی بسر کی۔